Rizwan Zubair
Learn › Islamic Banking › Video 07

Islamic Banking 07: Arguments by Islamic Bankers

Islamic Banking 07 Arguments by Islamic Bankers

Islamic Banking 07 Arguments by Islamic Bankers · 3:42 · 2020-11-22 · Watch on YouTube

أ‌) آپ کو اکثر سننے کو ملے گا کہ ہاں ، یہ درست ہے کہ عملی طور پر ایک عام بینک اور اسلامی بینک کی ٹرانزیکشن میں کوئی فرق نہیں، اصل فرق صرف اس کاغذ کا ہے جو ہم لکھتے ہیں۔ دیکھیں ذبیحہ بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے، اگر آپ بسم اللہ پڑھ لیں گے تو جانو ر حلال ہوجائے گا، نہیں پڑھیں گے تو حرام ہو جائے گا۔ نکاح اور بدکار ی میں بھی تو صرف ایک کاغذ لکھنے کا ہی فرق ہوتا ہے۔یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جوجانور اللہ تعالٰی نے ہماری غذا کے طور پر پیدا کیا ہے وہ فی نفسہٖ حلال ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کا رشتہ فی نفسہٖ حلال ہے۔ بنیادی پر یہ چیز یں حلال ہیں، مگر ان میں کچھ حرمت کا پہلوموجود ہے جسے اللہ کے نبی ؐ نے ہمیں دور کرنے کا طریقہ تعلیم فرمادیا۔ کہ مثلاً ، خون بہا لیا جائے ، بسم اللہ پڑھ لی جائے۔ اس کے مقابلے میں سود فی نفسہٖ حرام ہے۔ آپ بسم اللہ پڑھ کر سود کو حلال نہیں کر سکتے ، بالکل اسیطرح جیسے آپ بسم اللہ پڑھ کر خنزیر کو حلال نہیں کرسکتے۔
ب‌) دوسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں ، کہ ہاں ان پراڈکٹس میں مسائل ہیں لیکن یہ ہماری اس کوشش کا حصہ ہیں جس کے ذریعے ایک دن ہم صحیح پراڈکٹس تک بھی پہنچ جائیں گے۔ یہ دلیل بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ آپ نے اگر کوشش کرنی ہے تو صحیح پراڈکٹس ہی متعارف کرائیں اور اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ ان کو قبولیت عطا فرمائے ، یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ سود کانام بدل کے اس کو رائج کردیں اور اس امید میں بیٹھ جائیں کہ ایک دن لوگ خود ہی سود کھانا بند کردیں گے۔ ایسی ہی پراڈکٹس کانٹریکٹم ٹرینیس کے نام سے پندرھویں صدی عیسوی میں عیسائیوں نے متعارف کرائی تھیں اور آہستہ آہستہ جب لوگوں کو احساس ہو ا کہ سود میں اور ان حیلہ جوئیوں میں کوئی فرق نہیں تو انہوں نے عام سود کو بھی حلال کرلیا۔ لہذٰا یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اگر مسلمان علما ء نے بھی اسیطرح کی حیلہ جوئیوں کو حلال کردیا تو باقی کا سود لوگ خود بخود حلال کرلیں گے۔