Session 096: Surah Al-An'am 10–21
سورہ انعام، آیات ۱۰ تا ۲۱ — لفظی ترجمہ اور تفسیر
اللہ کی رحمت اور قیامت کا تعلق

Ayat Timings: {10} 0:25, {11} 5:09, {12} 8:07, {13} 16:50, {14} 20:17, {15} 29:30, {16} 31:32, {17} 34:14, {18} 38:26, {19} 40:12, {20} 47:36, {21} 50:22, Q&A 56:24.
If you walk in the land, you will see ruins of the perished nations who denied their messengers.
The Day of Judgment is actually a depiction of Mercy of Almighty Allah. If there is no judgment that Naudubillah it would mean that justice and injustice are same before the Creator.
The One who should be called for help is the One who actually helps everyone and not those who need to eat themselves and have not created anything.
God is All Wise and All Knowing and that subsequently demands that there should be a day of judgment. Plus, their can’t be any intercession that may render Truth equal to Falsehood.
سورہ انعام کی آیات۱۰ تا۲۱ کا لفظی ترجمہ اور تفسیر، اپنے ملک کے حالات و آثار کا مشاہدہ کرو تو تمھیں اس میں رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کی تباہی کے بہت سے آثار ملیں گے۔
قیامت کا آنا خدا کی صفت رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر قیامت نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات کا خالق رحمان و رحیم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک نعوذ باللہ عدل و ظلم، نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں یکساں ہیں،
مرجع بنائے جانے کا سزاوار تو وہ ہے جو آسمان و زمین کا عدم سے وجود میں لانے والا بھی ہے اور جس کے فضل و کرم سے سب کو روزی بھی مل رہی ہے نہ کہ تمھارے وہ اصنام خیالی جن کے متعلق تمھیں خود یہ تسلیم ہے کہ وہ خالق و موجد کسی چیز کے بھی نہیں۔
خدا کا حکیم و خبیر ہونا کئی باتوں کو مستلزم ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ایک روز جزا و سزا کو لائے اس لیے کہ اس کے بغیر یہ دنیا بالکل بے مقصد ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس کے ہاں کسی ایسی شفاعت کی گنجائش نہ ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے اس لیے کہ یہ اس کی حکمت کے بھی منافی ہے اور اس کے خبیر ہونے کے بھی۔
More from Surah Al-An'am (الأنعام) · All Surahs · قرآنی مادّوں کی لغت