ز و لz-w-l
(ن) زَالَ يَزُوْلُ زَوَالًا: اپنی جگہ چھوڑ کر کسی جانب مائل ہونا، ہٹ جانا، ٹل جانا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا﴾ (فاطر ۳۵:۴۱)
زَوَالٌ (مصدر، اسم کے طور پر): ٹلنا، زوال (اردو میں «زوال، لازوال» اسی معنی میں)۔ ﴿مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ﴾ (ابراھیم ۱۴:۴۴)
افعال اَزَالَ يُزِيْلُ اِزَالَةً: کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا، دور کر دینا (اردو میں «ازالہ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
«زوالِ آدمِ خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟» (بالِ جبریل)