ز ر یz-r-y
(ض) زَرٰى يَزْرِيْ زَرْيًا: عیب لگانا، حقیر جاننا۔
افتعال اِزْدَرٰى يَزْدَرِيْ اِزْدِرَاءً (اصل اِزْتَرٰى، تاء کو دال سے بدلا گیا): کسی کو نظروں میں گرا ہوا اور حقیر سمجھنا۔ قرآن میں صرف ایک بار، سیدنا نوح علیہ السلام کی زبانی: ﴿وَلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا﴾ (ھود ۱۱:۳۱)