ز ر عz-r-ʿ
(ف) زَرَعَ يَزْرَعُ زَرْعًا: کھیتی بونا، بیج ڈالنا (اردو میں «زراعت، زرعی» اسی معنی میں)۔ ﴿ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهُۥٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۶۴) — یعنی بیج ڈالنا تمہارا کام ہے، اگانا ہمارا؛ اسی لیے حدیث میں «لا يقولنّ أحدکم زرعتُ» کی تنبیہ آئی۔
زَرْعٌ ج زُرُوْعٌ: کھیتی، فصل۔ ﴿كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ﴾ (الفتح ۴۸:۲۹)
زَارِعٌ ج زَارِعُوْنَ وَزُرَّاعٌ (اسم الفاعل): کاشت کار۔ ﴿يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ﴾ (الفتح ۴۸:۲۹)
نوٹ: باب کا تعین قرآنی صیغے «تَزْرَعُوْنَ» سے ہوتا ہے۔ قرآن میں یہ مادہ ۱۴ بار آیا ہے۔
اردو میں اس مادے سے: مزروعہ۔