(ض) وَزَرَ يَزِرُ وِزْرًا (اصلی: وَزَرَ يَوْزِرُ): (۱) پہاڑ میں پناہ لینا (۲) کوئی بوجھل چیز اٹھانا؛ پھر گناہ کا بوجھ اٹھانے کے لیے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ (الانعام ۶:۱۶۴)
وِزْرٌ ج اَوْزَارٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): بوجھ؛ گناہ کا بوجھ؛ (جنگ کے) ہتھیار اور سامان۔ ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ (الانشراح ۹۴:۲)؛ ﴿حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا﴾ (محمد ۴۷:۴)
وَازِرٌ، مؤنث وَازِرَةٌ (اسم الفاعل): بوجھ اٹھانے والا (والی)۔ (مذکورہ آیت الانعام ۶:۱۶۴ میں)
وَزَرٌ (اسمِ ذات): پناہ گاہ۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۱۱)
وَزِيْرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): ہر حال میں ہمیشہ بوجھ بٹانے والا، معاون (اردو میں «وزیر، وزارت»: حکومت کا منسٹر؛ عربی میں: بوجھ بٹانے والا، معاون)۔ ﴿وَاجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۲۹)