Rizwan Zubair

مادّہ و ث ق

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

و ث قw-th-q

(ح) وَثِقَ يَثِقُ ثِقَةً وَوُثُوْقًا: کسی پر اعتبار کرنا، بھروسہ کرنا (اردو میں «وثوق» اسی معنی میں)؛ (ک) وَثُقَ يَوْثُقُ وَثَاقَةً: مضبوط ہونا، پختہ ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

ثِقَةٌ (مصدر، صفت بھی): قابلِ بھروسہ۔ (یہ لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

وَثَاقٌ (اسمِ ذات): باندھنے کی رسی یا زنجیر، بندھن۔ ﴿فَشُدُّوا الْوَثَاقَ﴾ (محمد ۴۷:۴)

مَوْثِقٌ (مَفْعِلٌ کے وزن پر): پختہ وعدہ، (قسم کے ساتھ) عہد۔ ﴿حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ﴾ (یوسف ۱۲:۶۶)

وُثْقٰى (اسم التفضیل، مؤنث اَوْثَقُ): زیادہ پختہ، مضبوط تر۔ ﴿فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۶)

مِيْثَاقٌ (اصلاً مِوْثَاقٌ، مِفْعَالٌ کے وزن پر اسم الآلہ): جکڑنے کی رسی (اردو میں «میثاق» اسی معنی میں)؛ پختہ عہد۔ ﴿وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّۦنَ﴾ (اٰل عمران ۳:۸۱)

(تفعیل) وَثَّقَ يُوَثِّقُ تَوْثِيْقًا: مضبوط کرنا؛ (کسی بات یا دستاویز کو) معتبر قرار دینا، تصدیق کرنا (اردو میں «توثیق» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

(افعال) اَوْثَقَ يُوْثِقُ اِيْثَاقًا: مضبوط باندھنا، جکڑنا۔ ﴿وَّلَا يُوْثِقُ وَثَاقَهُۥٓ اَحَدٌ﴾ (الفجر ۸۹:۲۶)

(مفاعلہ) وَاثَقَ يُوَاثِقُ مُوَاثَقَةً: کسی سے پختہ عہد لینا۔ ﴿وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهِۦٓ﴾ (المائدۃ ۵:۷)

اردو میں اس مادے سے: وثیقہ۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ