(ض، ک) وَحَدَ يَحِدُ وَحْدًا وَوَحُدَ يَوْحُدُ وَحَادَةً: اکیلا اور یکتا ہونا، منفرد ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَاحِدٌ، مؤنث وَاحِدَةٌ (اسم الفاعل): ایک، اکیلا (اردو میں «واحد» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ (البقرۃ ۲:۱۶۳)
اَحَدٌ (اصلاً وَحَدٌ، واو ہمزہ سے بدلی): ایک، یکتا (اردو میں «احد» اسی معنی میں)؛ اللہ کے لیے: جس کا کوئی ثانی نہ ہو۔ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ (الاخلاص ۱۱۲:۱)
وَحِيْدٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): تنہا، اکیلا (اردو میں «وحید» اسی معنی میں)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا﴾ (المدثر ۷۴:۱۱)
وَحْدَهُۥ (مصدر بطور حال): تنہا، اکیلے ہی۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ﴾ (الزمر ۳۹:۴۵)
(تفعیل) وَحَّدَ يُوَحِّدُ تَوْحِيْدًا: ایک کرنا؛ ایک ماننا، یکتا قرار دینا (اردو میں «توحید»: اللہ کی یکتائی کا عقیدہ؛ عربی میں: ایک کرنا، ایک ماننا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افتعال) اِتَّحَدَ يَتَّحِدُ اِتِّحَادًا: (کئی چیزوں کا) مل کر ایک ہو جانا، یکجا ہونا (اردو میں «اتحاد، متحد» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: وحدت، توحید، اتحاد، متحد۔
«ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملت» (ضربِ کلیم)