(ک، ض) وَبُلَ يَوْبُلُ وَبَالًا وَوَبَلَ يَبِلُ وَبْلًا: (انجام کا) بھاری اور وخیم ہونا؛ نیز بارش کا زور سے برسنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَابِلٌ (اسم الفاعل): موسلا دھار بارش — طَلّ (پھوار) کی ضد۔ ﴿فَاَصَابَهُۥ وَابِلٌ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًا﴾ (البقرۃ ۲:۲۶۴)؛ ﴿فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ﴾ (البقرۃ ۲:۲۶۵)
وَبَالٌ (اسمِ ذات): برا انجام، شامتِ اعمال (اردو میں «وبال» اسی معنی میں)۔ ﴿فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ﴾ (التغابن ۶۴:۵)
وَبِيْلٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): سخت، بھاری، وبال والا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِيْلًا﴾ (المزمل ۷۳:۱۶)
«شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبالِ دوش» (دیوانِ غالب)