Rizwan Zubair

مادّہ ط ل ق

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 4 · English

ط ل قṭ-l-q

(ض) طَلْقًا: کسی کا بندھن کھولنا۔ طَلَاقٌ (اسمِ مصدر): نکاح کا بندھن کھولنا (اردو میں «طلاق» اسی معنی میں)۔ ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۲۹)

(تفعیل) طَلَّقَ يُطَلِّقُ تَطْلِيْقًا: کسی کو آزاد کر کے جدا کرنا، طلاق دینا۔ طَلِّقْ (فعلِ امر): تو طلاق دے۔ مُطَلَّقَةٌ (اسم المفعول): طلاق دی ہوئی (اردو میں «مطلقہ» اسی معنی میں)۔ ﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ﴾ (الطلاق ۶۵:۱)؛ ﴿وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۲۲۸)

(افعال) اَطْلَقَ يُطْلِقُ اِطْلَاقًا: کھول کر آزاد چھوڑ دینا، بے قید کر دینا؛ «عَلٰى» کے صلہ کے ساتھ کسی نام یا حکم کو کسی چیز پر لگانا (اردو میں «اطلاق، مطلق» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

(انفعال) اِنْطَلَقَ يَنْطَلِقُ اِنْطِلَاقًا: بندھن سے آزاد ہونا، چل پڑنا۔ اِنْطَلِقْ (فعلِ امر): تو چل۔ ﴿فَانْطَلَقَا حَتّٰٓى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا﴾ (الکھف ۱۸:۷۴)

اردو میں اس مادے سے: مطلق۔

«ارے غافل! جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نے» (بانگِ درا)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ