ت ل وt-l-w
(ن) تَلَا يَتْلُوْ تُلُوًّا: کسی کے پیچھے پیچھے چلنا، پیروی کرنا۔ ﴿وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ (الشمس ۹۱:۲)
(ن) تَلَا يَتْلُوْ تِلَاوَةً: کوئی چیز پڑھنا یا پڑھ کر سنانا (علیٰ کے صلہ کے ساتھ) (اردو میں «تلاوت» اسی معنی میں)۔ اصطلاحًا یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو پڑھنے کے لیے مخصوص ہے، کیونکہ ان کے پڑھنے میں درج شدہ ہدایات کی پیروی بھی شامل ہے؛ جبکہ عام کتابوں کے لیے عمومًا قِرَاءَةً استعمال ہوتا ہے۔ ﴿يَتْلُوْنَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦ﴾ (البقرۃ ۲:۱۲۱)
اُتْلُ (فعل امر): تو پڑھ، تلاوت کر۔ ﴿اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ﴾ (العنکبوت ۲۹:۴۵)