Rizwan Zubair

مادّہ ص ل ح

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 5 · English

ص ل حṣ-l-ḥ

(ف) صَلَحَ يَصْلَحُ صَلَاحًا: نظم کا ٹھیک ہونا، درست ہونا، نیک ہونا (اردو میں «صلاح، صلاحیت»: مشورہ؛ قابلیت، اہلیت؛ عربی میں: درستی، نیکی، بھلائی)۔

صَالِحٌ ج صَالِحُوْنَ، مؤنث صَالِحَةٌ ج صَالِحٰتٌ (اسم الفاعل): نیک، درست (اردو میں «صالح» اسی معنی میں)؛ اَلصّٰلِحٰتُ: نیک اعمال۔ ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ﴾ (البیّنۃ ۹۸:۷)

صُلْحٌ (اسم ذات): صلح، باہمی درستی (اردو میں «صلح» اسی معنی میں)۔ ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ (النساء ۴:۱۲۸)

مفاعلہ صَالَحَ يُصَالِحُ مُصَالَحَةً: کسی سے صلح کرنا، جھگڑا ختم کر کے میل کر لینا (اردو میں «مصالحت، مصالحتی» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

افعال اَصْلَحَ يُصْلِحُ اِصْلَاحًا: درست کرنا (اردو میں «اصلاح» اسی معنی میں)۔ ﴿فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ﴾ (الحجرات ۴۹:۱۰)؛ ﴿وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا﴾ (الاعراف ۷:۵۶)

مُصْلِحٌ ج مُصْلِحُوْنَ (اسم الفاعل): اصلاح کرنے والا (اردو میں «مصلح» اسی معنی میں)۔ ﴿قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۱۱)

افتعال اِصْطَلَحَ يَصْطَلِحُ اِصْطِلَاحًا: آپس میں صلح کرنا؛ کسی بات پر باہم اتفاق کر لینا (اردو میں «اصطلاح، اصطلاحی»: کسی علم یا فن کا مقررہ لفظ؛ عربی میں: باہم صلح کرنا، اور کسی لفظ کے معنی پر اتفاق کر لینا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

اردو میں اس مادے سے: مصلحت (حکمت، مآل اندیشی، موقع کی رعایت؛ عربی میں: فائدہ، بہتری، بھلائی)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ