— ثلاثی مجرد استعمال نہیں ہوتا۔
تفعیل شَبَّهَ يُشَبِّهُ تَشْبِيْهًا: (۱) ملتا جلتا کر دینا (۲) شبہ یا شک میں ڈالنا (اتنا ملتا جلتا کرنا کہ فرق مشکل ہو) (اردو میں «تشبیہ» اسی معنی میں)۔ ﴿وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ﴾ (النساء ۴:۱۵۷)
مفاعلہ شَابَهَ يُشَابِهُ مُشَابَهَةً: کسی سے ملتا جلتا ہونا، ہم شکل ہونا (اردو میں «مشابہ، مشابہت» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
تفاعل تَشَابَهَ يَتَشَابَهُ تَشَابُهًا: ایک دوسرے کی مانند ہونا (اتنا ملتا جلتا ہونا کہ شک پڑ جائے)۔ ﴿اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيْنَا﴾ (البقرۃ ۲:۷۰)
مُتَشَابِهٌ (اسم الفاعل): باہم مانند ہونے والا (اردو میں «متشابہ» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ﴾ (اٰل عمران ۳:۷)
افتعال اِشْتَبَهَ يَشْتَبِهُ اِشْتِبَاهًا: کسی کے مانند ہونا (اردو میں «اشتباہ» اسی معنی میں)؛ مُشْتَبِهٌ (اسم الفاعل) (اردو میں «مشتبہ»: مشکوک، جس پر شک ہو؛ عربی میں: ملتا جلتا، مبہم)۔ ﴿مُشْتَبِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ﴾ (الانعام ۶:۹۹)
اردو میں اس مادے سے: شبہ، مشابہ، مشابہت۔