(ن) سَادَ يَسُوْدُ سِيَادَةً وَسَوْدًا: بزرگ ہونا، کسی گروہ یا قوم کا سردار ہونا (اردو میں «سیادت» اسی معنی میں)۔
(س) سَوِدَ يَسْوَدُ سَوَدًا: سیاہ ہونا، کالا ہونا۔
سَيِّدٌ ج سَادَةٌ (اسم ذات): سردار، آقا (اردو میں «سید»: آلِ رسول کا فرد؛ عربی میں: قوم کا سربراہ، آقا)۔ ﴿وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا﴾ (اٰل عمران ۳:۳۹)؛ ﴿وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ﴾ (یوسف ۱۲:۲۵)؛ ﴿اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا﴾ (الاحزاب ۳۳:۶۷)
اَسْوَدُ ج سُوْدٌ (افعل الوان و عیوب کے وزن پر صفت): کالے رنگ والا، یعنی کالا (اردو میں «اسود» اسی معنی میں)۔ ﴿وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ﴾ (فاطر ۳۵:۲۷)
افعلال اِسْوَدَّ يَسْوَدُّ اِسْوِدَادًا: کالا ہو جانا۔ ﴿يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۰۶)
مُسْوَدٌّ (اسم الفاعل): سیاہ پڑنے والا، کالا ہونے والا۔ ﴿ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدًّا﴾ (النحل ۱۶:۵۸)
تفعیل سَوَّدَ يُسَوِّدُ تَسْوِيْدًا: سیاہ کرنا؛ کاغذ پر کچی تحریر لکھنا (اردو میں «مسودہ»: کسی تحریر کا ابتدائی خاکہ؛ عربی میں: سیاہ کرنا، لکھ کر کاغذ کالا کرنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
«جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار» (ارمغانِ حجاز)
«ہوتا ہے جس سے اسود و احمر میں اختلاط» (بانگِ درا)