(ن) سَرَّ يَسُرُّ سُرُوْرًا: کسی کو خوش کرنا (اردو میں «سرور» اسی معنی میں)؛ آیت میں «تَسُرُّ» مؤنث آیا ہے: اگرچہ «لَوْن» مذکر ہے مگر مؤنث (ھَا) کا مضاف ہے اس لیے مؤنث فعل لایا جا سکتا ہے (فعل گائے کی طرف بھی راجع ہو سکتا ہے)۔ ﴿صَفْرَآءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِيْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۶۹)
مَسْرُوْرٌ (اسم المفعول): خوش (اردو میں «مسرور» اسی معنی میں)۔ ﴿وَّيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهِۦ مَسْرُوْرًا﴾ (الانشقاق ۸۴:۹)
سَرَّاءُ (فَعْلَاءُ کے وزن پر اسم ذات): خوشی کی کیفیت، خوش حالی۔ ﴿الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۳۴)
سِرٌّ ج اَسْرَارٌ (اسم ذات): راز (کبھی کوئی راز بتا کر یا چھپا کر کسی کو خوش کرتے ہیں) (اردو میں «سر، اسرار» اسی معنی میں)۔ ﴿يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰى﴾ (طٰہٰ ۲۰:۷)
سَرِيْرٌ ج سُرُرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر): لفظی معنی ہمیشہ خوش کرنے والا، مگر عام طور پر تختِ شاہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ﴿عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۴۷)
افعال اَسَرَّ يُسِرُّ اِسْرَارًا (اصل: اَسْرَرَ يُسْرِرُ): (۱) راز کی بات بتانا، اس کے لیے عموماً «اِلٰى» کا صلہ آتا ہے (۲) راز کی بات کو چھپانا، عموماً اس کا مفعول بنفسہ آتا ہے۔ ﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ﴾ (یونس ۱۰:۵۴)
اردو میں اس مادے سے: مسرت۔