(ن) سَقَطَ يَسْقُطُ سُقُوْطًا: بلندی سے پستی میں گرنا (اردو میں «سقوط» اسی معنی میں)۔ ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا﴾ (الانعام ۶:۵۹)؛ ﴿اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا﴾ (التوبۃ ۹:۴۹)
سُقِطَ (مجہول): سَقَطَ فعل لازم ہے، پھر بھی ایک محاورہ میں اس کا مجہول «سُقِطَ» آتا ہے لیکن وہاں بھی لازم کے معنی دیتا ہے؛ «سُقِطَ فِيْ يَدِهِۦ» کا مطلب ہے لغزش کرنا، نادم ہونا۔ ﴿وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ﴾ (الاعراف ۷:۱۴۹)
سَاقِطٌ (اسم الفاعل): گرنے والا (اردو میں «ساقط» اسی معنی میں)۔
افعال اَسْقَطَ يُسْقِطُ اِسْقَاطًا: کسی کو گرانا (اردو میں «اسقاط»: حمل گرا دینا؛ عربی میں: کسی چیز کو گرانا)؛ اَسْقِطْ (فعل امر): تو گرا۔ ﴿فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ﴾ (الشعراء ۲۶:۱۸۷)
مفاعلہ سَاقَطَ يُسَاقِطُ مُسَاقَطَةً: مسلسل یا باری باری گرانا۔ ﴿تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ (مریم ۱۹:۲۵)