Rizwan Zubair

مادّہ س م ع

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 8 · English

س م عs-m-ʿ

(س) سَمِعَ يَسْمَعُ سَمْعًا وَسَمَاعًا: سننا، کسی بات کو سن کر سمجھنا (اردو میں «سماع»: قوالی، صوفیانہ محفلِ موسیقی؛ عربی میں: سننا، سماعت)۔ ﴿سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا﴾ (البقرۃ ۲:۲۸۵)

سَمْعٌ: مصدر بھی ہے (سننا) اور اسم بھی (سننے کی قوت، کان — واحد اور جمع دونوں کے لیے) (اردو میں «سمع» اسی معنی میں)۔ ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ﴾ (البقرۃ ۲:۷)

سَمِيْعٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): خوب سننے والا (اردو میں «سمیع» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ﴾ (المجادلۃ ۵۸:۱)

سَمَّاعٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر اسم المبالغہ): بہت زیادہ سننے والا، جاسوس۔ ﴿سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ﴾ (المائدۃ ۵:۴۱)

افعال اَسْمَعَ يُسْمِعُ اِسْمَاعًا: کسی کو سنانا۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى﴾ (النمل ۲۷:۸۰)

مُسْمِعٌ (اسم الفاعل): سنانے والا۔ ﴿وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ﴾ (فاطر ۳۵:۲۲)

مُسْمَعٌ (اسم المفعول): جسے سنایا جائے۔ ﴿وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ﴾ (النساء ۴:۴۶)

افتعال اِسْتَمَعَ يَسْتَمِعُ اِسْتِمَاعًا: دھیان سے سننا، غور سے سننا۔ ﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهُۥ﴾ (الاعراف ۷:۲۰۴)

اردو میں اس مادے سے: سماعت، سامع، سامعین۔

«جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع» (دیوانِ غالب)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ