س ل فs-l-f
(ن) سَلَفَ يَسْلُفُ سَلَفًا وَسُلُوْفًا: پہلے گزر جانا، آگے نکل جانا۔ ﴿عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ﴾ (المائدۃ ۵:۹۵)
سَلَفٌ (اسم ذات): گزرے ہوئے لوگ، پیش رو (اردو میں «سلف» اسی معنی میں)؛ اسی سے «سَلَفِ صالحین»۔ ﴿فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِيْنَ﴾ (الزخرف ۴۳:۵۶)
افعال اَسْلَفَ يُسْلِفُ اِسْلَافًا: آگے بھیج دینا، پیشگی کر لینا — یعنی وہ عمل جو انسان آخرت کے لیے آگے روانہ کرے۔ ﴿بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ﴾ (الحاقۃ ۶۹:۲۴)
قرآن میں یہ مادہ آٹھ بار آیا ہے۔
اردو میں اس مادے سے: اسلاف۔
«یادِ ایامِ سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں میں» (بانگِ درا)