(ن) سَكَرَ يَسْكُرُ سَكْرًا: کسی چیز کی روانی کو روک دینا، جیسے دریا پر بند بنانا۔
(س) سَكِرَ يَسْكَرُ سَكَرًا: عقل کی روانی کا رک جانا، غصہ یا نشے سے مدہوش ہونا۔
سَكَرٌ (اسم ذات): مدہوش کرنے والی چیز، نشہ آور چیز۔ ﴿تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا﴾ (النحل ۱۶:۶۷)
سَكْرَةٌ (اسم ذات): مدہوشی، نشہ۔ ﴿وَجَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ﴾ (قٓ ۵۰:۱۹)
سُكَارٰى: بہت زیادہ مدہوش؛ مبالغہ کا وزن فَعْلَانُ ہے جس کی مؤنث فَعْلٰى آتی ہے، اور جمع فُعَالٰى کے وزن پر؛ اس طرح سَكْرَانُ / سَكْرٰى کی جمع سُكَارٰى ہے، جسے قرآن مجید میں سُكٰرٰى لکھا گیا ہے۔ ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى﴾ (النساء ۴:۴۳)
تفعیل سَكَّرَ يُسَكِّرُ تَسْكِيْرًا: گلا گھونٹنا، روک دینا۔ ﴿اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا﴾ (الحجر ۱۵:۱۵)