(ن) سَفَرَ يَسْفُرُ سُفُوْرًا: پردہ ہٹا کر ظاہر ہونا، روشن ہو جانا؛ اسی سے سَفَرٌ (سفر) بھی ہے کیونکہ وہ آدمی کے اخلاق کھول دیتا ہے (اردو میں «سفر» اسی معنی میں)۔
سِفْرٌ ج اَسْفَارٌ (اسم ذات): کتاب، کہ وہ معنی کھولتی ہے۔ ﴿كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا﴾ (الجمعۃ ۶۲:۵)
سَفَرَةٌ (جمع، واحد سَافِرٌ): لکھنے والے فرشتے، کاتب۔ ﴿بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ﴾ (عبس ۸۰:۱۵)
مفاعلہ سَافَرَ يُسَافِرُ مُسَافَرَةً وَسِفَارًا: سفر کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا (اردو میں «مسافر» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
افعال اَسْفَرَ يُسْفِرُ اِسْفَارًا: روشن ہونا، چمک اٹھنا۔ ﴿وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ﴾ (المدثر ۷۴:۳۴)
مُسْفِرَةٌ (اسم الفاعل): چمکتا ہوا (چہرہ)۔ ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ﴾ (عبس ۸۰:۳۸)
قرآن میں یہ مادہ ۱۲ بار آیا ہے۔
اردو میں اس مادے سے: مسافر، سفیر، سفارت۔