Rizwan Zubair

مادّہ س ف ن

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

س ف نs-f-n

— سَفِيْنَةٌ ج سُفُنٌ وَسَفَائِنُ (اسم ذات): کشتی (اردو میں «سفینہ» اسی معنی میں)۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم چھیلنے کا ہے (سَفَنَ = چھیلنا، مِسْفَنٌ = رندہ)، اور کشتی کو سفینہ کہنا اس لیے کہ وہ پانی کی سطح کو چھیلتی ہوئی چلتی ہے۔ ﴿حَتّٰٓى اِذَا رَكِبَا فِي السَّفِيْنَةِ خَرَقَهَا﴾ (الکھف ۱۸:۷۱)؛ ﴿اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ﴾ (الکھف ۱۸:۷۹)؛ ﴿فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ﴾ (العنکبوت ۲۹:۱۵)

«کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں» (بانگِ درا)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ