س د یs-d-y
(ن) سَدَا يَسْدُوْ سَدْوًا: کسی چیز کو یوں ہی چھوڑ دینا، بے مہار پھرنے دینا۔
سُدًي (اسم مقصور): بے کار، بغیر کسی مقصد کے چھوڑا ہوا، بے لگام؛ یہ لفظ بعث کے استدلال میں آیا ہے، یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی بے مقصد چھوڑ دیا جائے گا۔ ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًي﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۳۶)
قرآن میں صرف ایک بار آیا ہے۔