(ف) سَأَلَ يَسْأَلُ سُؤَالًا: سوال کرنا (اردو میں «سوال، سوالات» اسی معنی میں)؛ (۱) کوئی چیز مانگنا (۲) کسی چیز کے بارے میں پوچھنا۔ فعل امر: اِسْأَلْ اور سَلْ۔ ﴿يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۹)؛ ﴿سَلْ بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ﴾ (البقرۃ ۲:۲۱۱)
سُؤْلٌ (اسم ذات): درخواست، التجا، مانگی ہوئی چیز۔ ﴿قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى﴾ (طٰہٰ ۲۰:۳۶)
سَآئِلٌ (اسم الفاعل): مانگنے والا، پوچھنے والا (اردو میں «سائل» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ (الضحٰی ۹۳:۱۰)
مَسْـُٔوْلٌ (اسم المفعول): جس سے پوچھا جائے، جس کی باز پرس ہو۔ ﴿اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔوْلًا﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۴)
تفاعل تَسَآءَلَ يَتَسَآءَلُ تَسَآؤُلًا: باہم ایک دوسرے سے پوچھنا۔ ﴿عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ﴾ (النبا ۷۸:۱)
اردو میں اس مادے سے: مسئلہ، مسائل (مشکل، پریشانی، الجھن؛ عربی میں: پوچھی گئی بات، دریافت طلب امر)۔