(ن) رَبَّ يَرُبُّ رَبًّا: کسی چیز کو درجہ بدرجہ نشوونما دے کر اس کو درجۂ کمال تک پہنچانا، پرورش کرنا، تربیت کرنا، مالک ہونا۔
رَبٌّ ج اَرْبَابٌ: پالنے والا، مالک (اسم الفاعل، الف گرا کر) (اردو میں «رب، ارباب» اسی معنی میں)۔ ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ (الفاتحۃ ۱:۲)؛ ﴿ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ (یوسف ۱۲:۳۹)
رَبَّانِيٌّ ج رَبّٰنِيُّوْنَ: رب والے، اللہ والے (اردو میں «ربانی»: خدائی، الٰہی؛ عربی میں: اللہ والا، رب سے وابستہ عالم)۔ ﴿وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِيِّۦنَ﴾ (اٰل عمران ۳:۷۹)
رِبِّيٌّ ج رِبِّيُّوْنَ: رب والے، اللہ والے لوگ۔ ﴿وَكَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۴۶)
رَبِيْبَةٌ ج رَبَآئِبُ: زیرِ تربیت سوتیلی بیٹی۔ ﴿وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ﴾ (النساء ۴:۲۳)
اردو میں اس مادے سے: ربوبیت۔
«جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست» (بالِ جبریل)
«ذرا سی پھر ربوبیت سے شانِ بے نیازی لی» (بانگِ درا)