(ن) قَطَرَ يَقْطُرُ قَطْرًا: (۱) (پانی کا) قطرہ قطرہ ٹپکنا، بہنا (۲) کسی کو پہلو کے بل گرا دینا (اردو میں «قطرہ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
قُطْرٌ ج اَقْطَارٌ (اسمِ ذات): کسی چیز کا پہلو، کنارہ (اردو میں «قطر»: دائرے کا قطر، چوڑائی؛ عربی میں: کنارہ، پہلو، خطہ)۔ ﴿وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا﴾ (الاحزاب ۳۳:۱۴)
قِطْرٌ (اسمِ ذات): پگھلا ہوا تانبا۔ ﴿وَاَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ الْقِطْرِ﴾ (سبا ۳۴:۱۲)
قَطِرَانٌ (اسمِ ذات): ایک سیاہ، بدبودار اور آتش گیر روغنی مادہ جو بعض درختوں سے حاصل ہوتا ہے، تارکول۔ ﴿سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ﴾ (ابراھیم ۱۴:۵۰)
نوٹ: «قَنَاطِيْر» (اٰل عمران ۳:۱۴) اس مادہ سے نہیں بلکہ رباعی مادہ ق ن ط ر سے ہے۔
اردو میں اس مادے سے: تقطیر، مقطر۔