Rizwan Zubair

مادّہ ق ر ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

ق ر رq-r-r

(س، ض) قَرَّ يَقَرُّ وَيَقِرُّ قَرًّا وَقَرَارًا (اصلی: قَرِرَ يَقْرَرُ): (۱) کسی چیز کا ٹھنڈا ہو کر جم جانا (۲) کسی جگہ ٹھہرنا، قرار پکڑنا؛ «قَرَّتْ عَيْنُهُۥ» = اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوئی، یعنی وہ خوش ہوا۔ ﴿كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا﴾ (طٰہٰ ۲۰:۴۰)؛ ﴿وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ﴾ (الاحزاب ۳۳:۳۳)

قُرَّةٌ: ٹھنڈک؛ «قُرَّةُ عَيْنٍ» = آنکھوں کی ٹھنڈک۔ ﴿قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَلَكَ﴾ (القصص ۲۸:۹)

قَرَارٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): ٹھہراؤ، ٹھکانا (اردو میں «قرار» اسی معنی میں)۔ ﴿اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا﴾ (النمل ۲۷:۶۱)

(تفعیل) قَرَّرَ يُقَرِّرُ تَقْرِيْرًا: کسی بات کو ثابت اور طے کرنا، کسی کو کسی چیز پر قائم کرنا (اردو میں «تقریر»: خطاب، بیان؛ «مقرر»: طے شدہ، نیز خطیب؛ عربی میں: کسی بات کو ثابت اور طے کرنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

(افعال) اَقَرَّ يُقِرُّ اِقْرَارًا: کسی بات کو ٹھہرا دینا، یعنی اس کا اقرار کرنا (اردو میں «اقرار» اسی معنی میں)۔ ﴿ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۸۴)

(استفعال) اِسْتَقَرَّ يَسْتَقِرُّ اِسْتِقْرَارًا: اہتمام سے ٹھہرنا، قرار پکڑنا؛ مُسْتَقَرٌّ (اسم المفعول بطور ظرف): ٹھکانا، ٹھہرنے کی جگہ۔ ﴿وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ﴾ (البقرۃ ۲:۳۶)

اردو میں اس مادے سے: تقریر (خطاب، لیکچر؛ عربی میں: طے کرنا، ثابت کرنا؛ رپورٹ)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ