(ن) نَظَرَ يَنْظُرُ نَظْرًا: (۱) کسی کو دیکھنا، غور سے دیکھنا (۲) انتظار کرنا (اردو میں «نظر» اسی معنی میں)۔ ﴿اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَي الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۱۷)؛ ﴿هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ﴾ (الزخرف ۴۳:۶۶)
نَاظِرٌ، مؤنث نَاظِرَةٌ ج نٰظِرُوْنَ (اسم الفاعل): دیکھنے والا (اردو میں «ناظر» اسی معنی میں)؛ انتظار کرنے والا۔ ﴿اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۲۳)؛ ﴿فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ﴾ (النمل ۲۷:۳۵)
(مفاعلہ) نَاظَرَ يُنَاظِرُ مُنَاظَرَةً: کسی سے بحث کرنا، دلیل کے مقابلے میں دلیل لانا (اردو میں «مناظرہ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افعال) اَنْظَرَ يُنْظِرُ اِنْظَارًا: کسی کو مہلت دینا؛ مُنْظَرٌ (اسم المفعول): مہلت دیا ہوا۔ ﴿قَالَ اَنْظِرْنِيْٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ﴾ (الاعراف ۷:۱۴-۱۵) — نوٹ: ثلاثی مجرد اور باب افعال دونوں کا مضارع مجہول «يُنْظَرُ» ایک ہی ہے۔
(تفاعل) تَنَاظَرَ يَتَنَاظَرُ تَنَاظُرًا: باہم بحث کرنا؛ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا (اردو میں «تناظر»: پس منظر، سیاق؛ عربی میں: باہم بحث کرنا، آمنے سامنے ہونا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افتعال) اِنْتَظَرَ يَنْتَظِرُ اِنْتِظَارًا: اہتمام سے انتظار کرنا (اردو میں «انتظار» اسی معنی میں)؛ مُنْتَظِرٌ (اسم الفاعل): انتظار کرنے والا (اردو میں «منتظر» اسی معنی میں)۔ ﴿فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ﴾ (الاعراف ۷:۷۱)
اردو میں اس مادے سے: منظر، نظارہ، نظریہ؛ منظور (قبول شدہ، تسلیم شدہ؛ عربی میں: دیکھا گیا، نظر میں آیا)؛ نظیر (مثال، مانند؛ عربی میں: ہم پلّہ، برابر کا)۔