(ض) نَصَبَ يَنْصِبُ نَصْبًا: کسی چیز کو کھڑا کرنا، گاڑنا، جمانا (اردو میں «نصب» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاِلَي الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۱۹)
(س) نَصِبَ يَنْصَبُ نَصَبًا: تھک جانا؛ محنت و مشقت کرنا۔ ﴿فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ﴾ (الانشراح ۹۴:۷)
نَصَبٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): مشقت، تھکن۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا نَصَبٌ﴾ (فاطر ۳۵:۳۵)؛ ﴿لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا﴾ (الکھف ۱۸:۶۲)
نُصْبٌ (اسمِ ذات): ایذا، تکلیف۔ ﴿اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ﴾ (صٓ ۳۸:۴۱)
نَاصِبٌ، مؤنث نَاصِبَةٌ (اسم الفاعل): محنت کر کے تھکنے والا۔ ﴿عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۳)
نَصِيْبٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر بمعنی اسم المفعول): مقرر کیا ہوا حصہ (اردو میں «نصیب»: قسمت، تقدیر؛ عربی میں: مقررہ حصہ)۔ ﴿لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ﴾ (النساء ۴:۷)
نُصُبٌ ج اَنْصَابٌ (اسمِ ذات): بھینٹ چڑھانے کے لیے گاڑے ہوئے پتھر، استھان، بت۔ ﴿وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ﴾ (المائدۃ ۵:۳)؛ ﴿اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ﴾ (المائدۃ ۵:۹۰)
(تفعیل) نَصَّبَ يُنَصِّبُ تَنْصِيْبًا: کسی چیز کو کھڑا کرنا، نصب کرنا؛ کسی کو منصب پر مقرر کرنا (اردو میں «تنصیب» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: منصب، تنصیب۔
«منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا» (دیوانِ غالب)