(س) نَكِرَ يَنْكَرُ نَكَرًا وَنُكُوْرًا: (۱) کسی چیز کو نہ پہچاننا، کسی کو اجنبی سمجھنا (۲) ناگوار لگنا۔ ﴿فَلَمَّا رَآ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً﴾ (ھود ۱۱:۷۰)
نَكِيْرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر، اسمِ ذات کے معنی میں): انکار، ناگواری؛ (اللہ کی طرف سے) پکڑ۔ ﴿فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ﴾ (الحج ۲۲:۴۴)
نُكْرٌ وَنُكُرٌ (صفت): ناگوار، انوکھا اور برا۔ ﴿لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا نُّكْرًا﴾ (الکھف ۱۸:۷۴)؛ ﴿يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ﴾ (القمر ۵۴:۶)
اَنْكَرُ (اسم التفضیل): زیادہ برا، زیادہ ناگوار۔ ﴿اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ﴾ (لقمٰن ۳۱:۱۹)
(افعال) اَنْكَرَ يُنْكِرُ اِنْكَارًا: واقفیت کا اقرار نہ کرنا، پہچاننے سے انکار کرنا (اردو میں «انکار» اسی معنی میں)؛ مُنْكِرٌ (اسم الفاعل): نہ پہچاننے والا، انکار کرنے والا (اردو میں «منکر» اسی معنی میں)۔ ﴿يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا﴾ (النحل ۱۶:۸۳)؛ ﴿فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنْكِرُوْنَ﴾ (یوسف ۱۲:۵۸)
مُنْكَرٌ (اسم المفعول، صفت کے طور پر بھی): (۱) نہ پہچانا ہوا، اجنبی (۲) ناگوار (۳) برائی، یعنی وہ کام جسے انسانی فطرت نہیں پہچانتی (اردو میں «منکرات» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۶۲)؛ ﴿وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۰۴)
(تفعیل) نَكَّرَ يُنَكِّرُ تَنْكِيْرًا: کسی چیز کو ناقابلِ شناخت بنا دینا، بھیس بدلنا؛ نَكِّرْ (فعلِ امر): تو بھیس بدل دے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا﴾ (النمل ۲۷:۴۱)