ن ح سn-ḥ-s
(ف، س) نَحَسَ يَنْحَسُ وَنَحِسَ يَنْحَسُ نَحْسًا: منحوس ہونا، بدشگون ہونا — سَعْد کی ضد۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
نَحْسٌ ج نَحِسَاتٌ (مصدر، صفت بھی): نحوست؛ منحوس۔ ﴿فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ﴾ (القمر ۵۴:۱۹)؛ ﴿فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ﴾ (فصلت ۴۱:۱۶)
نُحَاسٌ (اسمِ ذات): تانبا (پگھلا ہوا)؛ بعض نے بے شعلہ دھواں کہا ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ وَّنُحَاسٌ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۳۵)
اردو میں اس مادے سے: منحوس، نحوست۔