Rizwan Zubair

مادّہ ن ھ ی

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 9 · English

ن ھ یn-h-y

(ف) نَهٰى يَنْهٰى نَهْيًا (اصلی: نَهَيَ يَنْهَيُ): (۱) کسی کام سے منع کرنا، روکنا (۲) ذہین اور زیرک ہونا (کہ صحیح چیز سے روکے) (اردو میں «نہی» اسی معنی میں)؛ اِنْهَ (فعلِ امر): تو منع کر۔ ﴿وَنَهَي النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى﴾ (النّٰزعٰت ۷۹:۴۰)؛ ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ (العنکبوت ۲۹:۴۵)

نَاهٍ ج نَاهُوْنَ (اسم الفاعل): منع کرنے والا۔ ﴿وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ (التوبۃ ۹:۱۱۲)

نُهًي (اسمِ ذات، واحد نُهْيَةٌ): عقل، ذہانت، فراست (جو برائی سے روکے)۔ ﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى﴾ (طٰہٰ ۲۰:۵۴)

(تفاعل) تَنَاهٰى يَتَنَاهٰى تَنَاهِيًا: باہم ایک دوسرے کو روکنا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ﴾ (المائدۃ ۵:۷۹)

(افتعال) اِنْتَهٰى يَنْتَهِيْ اِنْتِهَآءً: اہتمام سے خود کو روکنا، رک جانا، باز آنا (اردو میں «انتہا، انتہائی»: حد، آخری درجہ؛ عربی میں: رک جانا، باز آنا)؛ اِنْتَهِ (فعلِ امر): تو باز آ؛ مُنْتَهٍ (اسم الفاعل): باز آنے والا؛ مُنْتَهًي (اسم المفعول بطور ظرف): رکنے کی جگہ، انتہا۔ ﴿فَمَنْ جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهِۦ فَانْتَهٰى﴾ (البقرۃ ۲:۲۷۵)؛ ﴿فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ﴾ (المائدۃ ۵:۹۱)؛ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى﴾ (النجم ۵۳:۴۲)؛ ﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى﴾ (النجم ۵۳:۱۴)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ