(ک) مَكُنَ يَمْكُنُ مَكَانَةً: (۱) رتبے والا، معزز ہونا (۲) جما ہوا اور با اختیار ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
مَكَانَةٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): حالت، جگہ، مرتبہ۔ ﴿قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ﴾ (الانعام ۶:۱۳۵)
مَكِيْنٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): صاحبِ مرتبہ، با اختیار؛ جما ہوا۔ ﴿اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ﴾ (یوسف ۱۲:۵۴)؛ ﴿فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ﴾ (المرسلٰت ۷۷:۲۱)
(افعال) اَمْكَنَ يُمْكِنُ اِمْكَانًا: کسی کو کسی پر قابو دے دینا (اردو میں «امکان، ممکن»: ممکن ہونا، گنجائش؛ عربی میں: قابو دلانا، دسترس دینا)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ﴾ (الانفال ۸:۷۱)
(تفعیل) مَكَّنَ يُمَكِّنُ تَمْكِيْنًا: اختیار دینا، (زمین میں) جما دینا (اردو میں «تمکین» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّا مَكَّنَّا لَهُۥ فِي الْاَرْضِ﴾ (الکھف ۱۸:۸۴)؛ ﴿الَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ﴾ (الحج ۲۲:۴۱)
«ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں» (دیوانِ غالب)