ل ھ مl-h-m
— ثلاثی مجرد سے فعل قرآن میں نہیں آیا؛ اصل مفہوم یکبارگی نگل جانے کا ہے (لَهِمَ الشَّيْءَ = ایک ہی بار میں نگل لیا)۔
(افعال) اَلْهَمَ يُلْهِمُ اِلْهَامًا: دل میں کوئی بات ڈال دینا، القا کرنا (اردو میں «الہام» اسی معنی میں)؛ الہام کو یہ نام اس لیے ملا کہ دل اسے یکبارگی قبول کر لیتا ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا﴾ (الشمس ۹۱:۸) — یعنی نفس میں بدی اور پرہیزگاری دونوں کی پہچان ڈال دی۔
«محکوم کے الہام سے اللہ بچائے» (ضربِ کلیم)