(ض) خَتَمَ يَخْتِمُ خَتْمًا: مہر لگانا، بند کر دینا (اردو میں «ختم»: پورا ہونا، انجام کو پہنچنا؛ عربی میں: مہر لگانا، بند کرنا)؛ اور اسی سے کسی چیز کے آخر تک پہنچنا۔ قرآن میں یہ مادہ آٹھ بار آیا ہے۔ ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ﴾ (البقرۃ ۲:۷)؛ ﴿اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓى اَفْوَاهِهِمْ﴾ (یٰسٓ ۳۶:۶۵)
خَاتَم: مہر، انگوٹھی (اردو میں «خاتم» اسی معنی میں)؛ اور «خاتم النبیین» یعنی نبوت کی مہر۔ ﴿وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّۦنَ﴾ (الاحزاب ۳۳:۴۰)
خِتَام: مہر، نیز انجام۔ ﴿خِتٰمُهُۥ مِسْكٌ﴾ (المطففین ۸۳:۲۶)
مَخْتُوْم (اسمِ مفعول): مہر لگایا ہوا۔ ﴿يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ﴾ (المطففین ۸۳:۲۵)
افتعال اِخْتَتَمَ يَخْتَتِمُ اِخْتِتَامًا: کسی کام یا سلسلے کو انجام تک پہنچانا، ختم کرنا (اردو میں «اختتام، اختتامی» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: خاتمہ۔
«خاتمِ دستِ سلیماں کا نگیں بن کے رہا» (بانگِ درا)