(ض) خَصَمَ يَخْصِمُ خَصْمًا: زبانی جھگڑا کرنا، بحث میں غالب آنا۔
خَصْمٌ (اسمِ ذات): مدِّ مقابل، فریقِ مقدمہ (اردو میں «خصم» اسی معنی میں)۔ ﴿هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ﴾ (الحج ۲۲:۱۹)
خَصِمٌ ج خَصِمُوْنَ (صفت): جھگڑالو۔ ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ﴾ (الزخرف ۴۳:۵۸)
خِصَامٌ: جھگڑا۔ ﴿وَهُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۰۴)
خَصِيْمٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): ہمیشہ بحث کرنے والا، حمایتی وکیل۔ ﴿وَلَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِيْنَ خَصِيْمًا﴾ (النساء ۴:۱۰۵)
افتعال اِخْتَصَمَ يَخْتَصِمُ اِخْتِصَامًا: اہتمام سے الجھنا، باہم جھگڑنا۔ ﴿اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ﴾ (صٓ ۳۸:۶۹)
اردو میں اس مادے سے: خصومت۔
«خصومت تھی سلطانی و راہبی میں» (بالِ جبریل)