Rizwan Zubair

مادّہ ک ت ب

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 7 · English

ک ت بk-t-b

(ن) كَتَبَ يَكْتُبُ كَتْبًا وَكِتَابَةً: اصل معنی جوڑنا اور سینا (كَتَبَ السِّقَآءَ: مشک کو سی دینا) (اردو میں «کتابت»: خوشنویسی، خطاطی؛ عربی میں: لکھنا، تحریر)؛ حروف کو جوڑنے کی مناسبت سے لکھنا؛ پھر لازم کر دینا، فرض کر دینا۔ ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۳)؛ ﴿وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۸۲)

كِتَابٌ ج كُتُبٌ (اسمِ ذات): لکھی ہوئی چیز، کتاب (اردو میں «کتاب، کتب» اسی معنی میں)؛ نیز فرض کیا ہوا حکم۔ ﴿ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ﴾ (البقرۃ ۲:۲)

كَاتِبٌ ج كٰتِبُوْنَ (اسم الفاعل): لکھنے والا (اردو میں «کاتب» اسی معنی میں)۔ ﴿كِرَامًا كَاتِبِيْنَ﴾ (الانفطار ۸۲:۱۱)

مَكْتُوْبٌ (اسم المفعول): لکھا ہوا (اردو میں «مکتوب»: خط، چٹھی؛ عربی میں: لکھا ہوا)۔ ﴿يَجِدُوْنَهُۥ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ﴾ (الاعراف ۷:۱۵۷)

(مفاعلہ) كَاتَبَ يُكَاتِبُ مُكَاتَبَةً: غلام کے ساتھ (معاوضے پر) آزادی کا تحریری معاہدہ کرنا۔ ﴿فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا﴾ (النور ۲۴:۳۳)

(افتعال) اِكْتَتَبَ يَكْتَتِبُ اِكْتِتَابًا: اہتمام سے لکھوا لینا، نقل کرا لینا۔ ﴿اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا﴾ (الفرقان ۲۵:۵)

اردو میں اس مادے سے: مکتب (مدرسہ، مکتبِ فکر؛ عربی میں: لکھنے کی جگہ، دفتر)؛ مکتبہ۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ