Rizwan Zubair

مادّہ ھ ض م

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 2 · English

ھ ض مh-ḍ-m

(ض) هَضَمَ يَهْضِمُ هَضْمًا: کسی نرم چیز کو دبا کر توڑنا (اردو میں «ہضم»: کھانا پچنا؛ عربی میں: دبا کر توڑنا، حق تلفی)؛ اسی بنیادی مفہوم سے (۱) کسی کا حق کم کرنا (۲) نرم و ملائم ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

هَضْمٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): حق تلفی۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا﴾ (طٰہٰ ۲۰:۱۱۲)

هَضِيْمٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): نرم، ملائم؛ (پھل کے گچھے کا) تہ بہ تہ اور بوجھ سے جھکا ہوا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيْمٌ﴾ (الشعراء ۲۶:۱۴۸)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ