Rizwan Zubair

مادّہ د ر س

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

د ر سd-r-s

(ن) دَرَسَ يَدْرُسُ دَرْسًا وَدِرَاسَةً: اس مادہ کے دو بنیادی رخ ہیں اور دونوں ایک ہی اصل سے نکلے ہیں: (۱) کسی چیز کے نشان کو مٹا دینا، اور لازم میں نشانات کا مٹ جانا (اسی سے دَرَسَ الرَّسْمُ = کھنڈر کے نشان مٹ گئے) (اردو میں «درس» اسی معنی میں)۔

(۲) کسی کتاب کو بار بار پڑھنا اور اس کا مطالعہ کرنا — اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اس میں پہلا مفہوم یوں شامل ہے کہ بار بار پڑھنے سے صفحہ گھس جاتا ہے، یا یہ کہ پڑھنے والا حرف پر بار بار گزرتا ہے جیسے قدم زمین پر۔ ﴿وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ﴾ (الاعراف ۷:۱۶۹)؛ ﴿وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ﴾ (اٰل عمران ۳:۷۹)

مفاعلہ دَارَسَ يُدَارِسُ مُدَارَسَةً: باہم پڑھنا، ایک دوسرے کو پڑھانا / کسی سے پڑھنا۔ ﴿وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ﴾ (الانعام ۶:۱۰۵) (ایک قراءت میں «دَارَسْتَ»)

تفعیل دَرَّسَ يُدَرِّسُ تَدْرِيْسًا: پڑھانا، تعلیم دینا (اردو میں «تدریس، مدرس» اسی معنی میں)۔

مِدْرَاسٌ / مَدْرَسَةٌ: پڑھنے کی جگہ (اردو میں «مدرسہ» اسی معنی میں)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ