Rizwan Zubair

مادّہ ب ص ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 9 · English

ب ص رb-ṣ-r

(ک) بَصُرَ يَبْصُرُ بَصَارَةً: دیکھنا، دیکھ کر سمجھنا (اردو میں «بصارت» اسی معنی میں)۔ ﴿فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَنْ جُنُبٍ﴾ (القصص ۲۸:۱۱)

بَصَرٌ ج اَبْصَارٌ (اسمِ ذات): آنکھ، دیکھ کر سمجھنے کی حس (اردو میں «بصر» اسی معنی میں)۔ ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ﴾ (الانعام ۶:۱۰۳)

بَصِيْرٌ (فعیل کے وزن پر، اسم الفاعل کے معنوں میں): دیکھنے والا (اردو میں «بصیر» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ﴾ (الحج ۲۲:۷۵)

بَصِيْرَةٌ ج بَصَائِرُ: اس پر تائے تانیث نہیں بلکہ تائے مبالغہ ہے، جیسے عَلَّامَةٌ پر (اردو میں «بصیرت» اسی معنی میں)؛ بہت زیادہ دیکھنے والا، پھر زیادہ تر سمجھنے کی صلاحیت، نشانِ عبرت، سمجھ میں آنے والی دلیل کے لئے آتا ہے۔ ﴿بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهِۦ بَصِيْرَةٌ﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۱۴)؛ ﴿قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ﴾ (الانعام ۶:۱۰۴)

افعال اَبْصَرَ يُبْصِرُ اِبْصَارًا: بینا ہونا، بینا کرنا۔ ﴿اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ﴾ (السجدۃ ۳۲:۲۷)

مُبْصِرٌ (اسم الفاعل): بینا کرنے والا، بینا ہونے والا۔ ﴿وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا﴾ (یونس ۱۰:۶۷)

تفعیل بَصَّرَ يُبَصِّرُ تَبْصِرَةً: دکھانا اور سمجھانا، (بتدریج) بینا کرنا (اردو میں «تبصرہ، مبصّر»: جائزہ، رائے زنی، تبصرہ نگار؛ عربی میں: دکھانا، بینا کرنا)۔ ﴿تَبْصِرَةً وَّذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ﴾ (قٓ ۵۰:۸)

استفعال اِسْتَبْصَرَ يَسْتَبْصِرُ اِسْتِبْصَارًا: بصیرت طلب کرنا، سوچ بچار کرنا۔ ﴿وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ﴾ (العنکبوت ۲۹:۳۸)

«خرد سے راہرو روشن بصر ہے» (بالِ جبریل)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ