ب ل سb-l-s
— ثلاثی مجرد مستعمل نہیں۔
افعال أَبْلَسَ يُبْلِسُ إِبْلَاسًا: مایوس ہو کر خاموش رہ جانا، حیرت و ناامیدی سے گنگ ہو جانا۔ ﴿وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ﴾ (الروم ۳۰:۱۲)
مُبْلِس (اسمِ فاعل): آس ٹوٹا ہوا، ششدر۔ قرآن میں پانچ بار، اور ہر بار باب افعال میں: ﴿فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ﴾ (الانعام ۶:۴۴)
إِبْلِيْس: اہلِ لغت کے ہاں اس کا اشتقاق بھی اسی سے بتایا جاتا ہے (یعنی رحمتِ الٰہی سے مایوس)، اگرچہ بعض نے اسے عجمی الاصل کہا ہے (اردو میں «ابلیس» اسی معنی میں)۔ ﴿اِلَّآ اِبْلِيْسَ اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ﴾ (البقرۃ ۲:۳۴)