Rizwan Zubair

مادّہ ب ل غ

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

ب ل غb-l-gh

(ن) بَلَغَ يَبْلُغُ بُلُوْغًا: کسی مقصود چیز کی انتہا تک پہنچنا (اردو میں «بلوغ، بلوغت»: سنِ رشد کو پہنچنا؛ عربی میں: کسی مقصود تک پہنچنا)۔ ﴿حَتّٰٓى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهُۥ﴾ (الاحقاف ۴۶:۱۵)

(ک) بَلُغَ يَبْلُغُ بَلَاغَةً: آسانی سے پہنچنا، فصیح ہونا (اردو میں «بلاغت» اسی معنی میں)۔

بَلِيْغ (فعیل کے وزن پر صفت): فصیح، دل میں اترنے والا (اردو میں «بلیغ» اسی معنی میں)۔ ﴿وَقُلْ لَّهُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا﴾ (النساء ۴:۶۳)

بَالِغ (اسم الفاعل): پہنچنے والا، کامل (اردو میں «بالغ»: جوان، عاقل و رشید؛ عربی میں: پہنچنے والا، پورا اترنے والا)۔ ﴿قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ﴾ (الانعام ۶:۱۴۹)

مفاعلہ بَالَغَ يُبَالِغُ مُبَالَغَةً: کسی کام میں پورا زور لگانا، حد سے بڑھ جانا (اردو میں «مبالغہ، مبالغہ آرائی»: بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا؛ عربی میں: کسی کام میں انتہا تک کوشش کرنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

افعال اَبْلَغَ يُبْلِغُ اِبْلَاغًا: پہنچانا (اردو میں «ابلاغ» اسی معنی میں)۔ ﴿لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ﴾ (الاعراف ۷:۹۳)

بَلَاغٌ: اسم ذات (پیغام) اور باب افعال کا مصدر بھی (پہنچانا)۔ ﴿وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ﴾ (یٰسٓ ۳۶:۱۷)

تفعیل بَلَّغَ يُبَلِّغُ تَبْلِيْغًا: آہستہ آہستہ پہنچانا (اردو میں «تبلیغ، مبلغ»: دین کی دعوت و اشاعت؛ عربی میں: پیغام پہنچانا)۔ ﴿يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ﴾ (المائدۃ ۵:۶۷)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ