ب ح رb-ḥ-r
(ف) بَحَرَ يَبْحَرُ بَحْرًا: کسی چیز کو چیرنا اور کشادہ کرنا (بَحَرَ الأُذُنَ: کان چیرنا)۔
بَحْر ج بُحُور وَبِحَار: وہ وسیع پانی جو زمین کو چیر کر پھیلا ہو (اردو میں «بحر» اسی معنی میں)؛ مجازاً وسیع علم والا شخص، اور شعر کا بحر۔ ﴿مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۱۹)؛ ﴿وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ﴾ (التکویر ۸۱:۶)
بَحِيْرَة: کان چیری ہوئی اونٹنی (جاہلیت میں بتوں کے نام پر چھوڑی جاتی)۔ ﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَآئِبَةٍ﴾ (المائدۃ ۵:۱۰۳)
بَحْرِيّ: اسمِ نسبت (اردو میں «بحری» اسی معنی میں)۔
اردو میں اس مادے سے: بحیرہ۔
«سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے» (دیوانِ غالب)