— عَسَى: فعلِ جامد، افعالِ مقاربہ (بابِ رجاء) میں سے؛ معنی: امید ہے کہ، شاید۔ اس کا اسم مرفوع اور خبر عام طور پر «أَنْ» کے ساتھ مضارع ہوتی ہے (بخلاف كَادَ کے، جس کی خبر میں أَنْ قلیل ہے)۔ نحویوں کی تصریح ہے کہ جب عَسَى اللہ کی طرف سے ہو تو یہ رجاء نہیں بلکہ وجوب و تحقیق کے لیے ہوتا ہے۔ قرآن میں ۳۰ بار: ﴿وَعَسٰۤي أَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ (البقرۃ ۲:۲۱۶) اور ﴿عَسٰى رَبُّهُۥۤ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُّبْدِلَهُۥۤ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ﴾ (التحریم ۶۶:۵)۔
عربی قواعد میں عَسَى اور كَادَ / يَكَادُ کو «افعالِ مقاربہ و رجاء» کے باب میں لایا جاتا ہے۔ یہ افعالِ ناقصہ کی طرح عمل کرتے ہوئے اپنے اسم کو رفع اور خبر کو محلاً نصب دیتے ہیں۔ ان کا امتیازی قاعدہ یہ ہے کہ ان کی خبر کبھی مفرد اسم نہیں ہوتی، بلکہ ہمیشہ «فعل مضارع» پر مشتمل جملہ فعلیہ کی صورت میں آتی ہے۔