— اصل و وزن میں اقوال: (۱) أَيَيَة تھی، وزن فَعَلَة، حرکت کی ثقالت سے یاء الف بن گئی — سیبویہ و خلیل کا رجحان؛ (۲) أَيْيَة، وزن فَعْلَة — کسائی؛ (۳) بعض نے مادہ أ و ی کی طرف نسبت کی۔ جمع آیَات پہلے قول کی تائید کرتی ہے۔
آيَة ج آيَات وَآيٌ: وہ کھلی علامت جو اپنے سے آگے کی چیز پر دلالت کرے (اردو میں «آیت، آیات» اسی معنی میں)؛ قرآن میں (۱) نشانی: ﴿وَمِنْ اٰيٰتِهِۦ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ (الروم ۳۰:۲۲)؛ (۲) معجزہ: ﴿فَاْتِ بِاٰيَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ﴾ (الشعراء ۲۶:۱۵۴)؛ (۳) قرآن کا جملۂ منفصل: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا﴾ (البقرۃ ۲:۱۰۶)؛ ﴿تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ﴾ (یوسف ۱۲:۱)