Rizwan Zubair

مادّہ ا و ل

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

ا و لʾ-w-l

(ن) أَوَلَ يَأْوُلُ (اصلی) ⟵ اٰلَ يَئُوْلُ اَوْلًا وَمَاٰلًا (استعمالی): کسی چیز کا اپنے اصل کی طرف واپس ہونا، لوٹنا (اردو میں «مآل» اسی معنی میں)۔ اس مادہ سے ثلاثی کا کوئی فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔

تفعیل اَوَّلَ يُؤَوِّلُ تَاْوِيْلًا: کسی چیز کو اس کے اصل کی طرف واپس کرنا (اردو میں «تاویل»: من مانی تعبیر، توجیہ؛ عربی میں: اصل انجام، حقیقت)۔ تَاْوِيْلٌ اسمِ ذات بھی ہے: کسی چیز یا بات کا آخری انجام، اصل حقیقت۔ ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهُۥٓ اِلَّا اللّٰهُ﴾ (اٰل عمران ۳:۷)؛ ﴿ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ (النساء ۴:۵۹)

اٰلٌ (صفت): کسی کے ساتھ تعلق والا، پیروکار (اردو میں «آل» اسی معنی میں)؛ کسی اہلِ علم یا صاحبِ شرف یا کسی بھی طور مشہور ہستی کی طرف مضاف ہو کر آتا ہے۔ ﴿اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ (غافر ۴۰:۴۶)

اَوَّلُ مؤنث اُوْلٰى (افعل التفضیل): اَفْعَلُ کے وزن پر اَأْوَلُ سے تبدیل ہو کر، کثرتِ استعمال سے واو میں ادغام کر کے اَوَّل (اردو میں «اول» اسی معنی میں)۔ بنیادی معنی: سب سے پہلے اصل کی طرف لوٹنے والا؛ پھر «پہلا» کے مفہوم میں عام۔ ﴿هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ﴾ (الحدید ۵۷:۳)؛ ﴿وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى﴾ (الضحٰی ۹۳:۴)

اُوْلُوْا (جمع، ہمیشہ مضاف بن کر آتا ہے): والے۔ ﴿اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴾ (الرعد ۱۳:۱۹)

«کیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآل» (بانگِ درا)

«تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ» (ضربِ کلیم)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ