ا ب دʾ-b-d
(ض) أَبَدَ يَأْبِدُ أُبُودًا: کسی جگہ ٹھہر جانا اور جمے رہنا؛ نیز جنگل میں وحشی ہو جانا، آدمی سے بدکنا (اسی سے أَوَابِد یعنی وحشی جانور)۔ دونوں معانی میں ربط یہ ہے کہ جو چیز اپنی حالت پر جمی رہے، وہ بدلتی نہیں۔
أَبَد ج آبَاد: وہ زمانہ جس کی انتہا نہ ہو، دوام (اردو میں «ابد، ابدی» اسی معنی میں)۔ أَبَدًا: ظرفِ زمان، ہمیشہ کے لیے؛ نفی کے ساتھ آئے تو معنی «کبھی نہیں»۔ قرآن میں یہ مادہ ۲۸ بار آیا ہے اور ہر بار ظرف أَبَدًا کی صورت میں: ﴿خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا﴾ (النساء ۴:۵۷)؛ ﴿وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًا﴾ (البقرۃ ۲:۹۵)
«مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا» (بانگِ درا)