(ض) وَتَرَ يَتِرُ وَتْرًا وَتِرَةً (اصلی: وَتَرَ يَوْتِرُ): کسی کے مال یا حق میں کمی کرنا، (بدلہ لیے بغیر) نقصان پہنچانا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاللّٰهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ﴾ (محمد ۴۷:۳۵)
وِتْرٌ وَوَتْرٌ (اسمِ ذات): طاق عدد (اردو میں «وتر»: نمازِ وتر؛ عربی میں: طاق، اکیلا عدد)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ﴾ (الفجر ۸۹:۳)
(تفاعل) تَوَاتَرَ يَتَوَاتَرُ تَوَاتُرًا: وقفے وقفے سے ایک دوسرے کے پیچھے آنا (اردو میں «تواتر، متواتر» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
تَتْرٰى (اصلاً وَتْرٰى، واو تاء سے بدلی): ایک کے بعد ایک، لگاتار۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا﴾ (المؤمنون ۲۳:۴۴)