(ف) صَفَحَ يَصْفَحُ صَفْحًا: بنیادی معنی «الگ الگ پھیلانا اور چوڑا کرنا»؛ پھر درگزر کرنا، کسی کو اس کے قصور کا احساس بھی نہ دلانا، ترکِ ملامت۔ ﴿وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا﴾ (النور ۲۴:۲۲)؛ ﴿فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ﴾ (الحجر ۱۵:۸۵)
عَفْوٌ اور صَفْحٌ میں ایک لطیف فرق ہے: عفو (عَفَا يَعْفُوْ) کا مطلب ہے ترکِ عقوبت، یعنی کسی کو اس کے جرم و گناہ کی سزا کا ارادہ ترک کر دینا؛ جبکہ صفح (صَفَحَ يَصْفَحُ) کا مطلب ہے ترکِ تثریب، یعنی گناہ گار اور مجرم کو ملامت اور سرزنش بھی نہ کرنا۔ اسی لیے صاحبِ مفردات نے لکھا ہے کہ صفح، عفو سے بھی بڑا طرزِ عمل ہے، کیونکہ کتنی ہی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی کو (سزا) معاف تو کر دیتا ہے مگر ملامت کر گزرتا ہے؛ یعنی ترکِ عقوبت قدرے آسان ہے مگر ترکِ ملامت نسبتاً مشکل اور زیادہ بلند ہمتی کا کام ہے، اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اکثر جگہ عفو کے معاً بعد صفح کا حکم آیا ہے۔
صَفْحًا: منہ پھیر کر، اعراض کر کے۔ ﴿اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا﴾ (الزخرف ۴۳:۵)
مفاعلہ صَافَحَ يُصَافِحُ مُصَافَحَةً: ہاتھ سے ہاتھ ملانا (اردو میں «مصافحہ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: صفحہ، مصافحہ۔