(ن) سَنَدَ يَسْنُدُ سُنُوْدًا: ٹیک لگانا، سہارا لینا۔
سَنَدٌ (اسم ذات): سہارا (اردو میں «سند»: ثبوت، حوالہ، تصدیقی دستاویز؛ عربی میں: ٹیک، سہارا)؛ اسی سے حدیث کی اصطلاح «سند»۔
تفعیل سَنَّدَ يُسَنِّدُ تَسْنِيْدًا: ٹیک لگا کر کھڑا کرنا۔
مُسَنَّدَةٌ (اسم المفعول): ٹیک لگائی ہوئی؛ یہ منافقین کی تشبیہ میں آیا ہے۔ ﴿كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ (المنافقون ۶۳:۴)
قرآن میں صرف ایک بار آیا ہے۔
افتعال اِسْتَنَدَ يَسْتَنِدُ اِسْتِنَادًا: کسی چیز سے ٹیک لگانا، کسی بات پر بھروسا کرنا (اردو میں «مستند»: معتبر، سند سے ثابت؛ «استناد»: سند پیش کرنا؛ عربی میں: ٹیک لگانا، سہارا لینا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: مسند (اعزازی نشست، عہدہ؛ عربی میں: تکیہ، ٹیک لگانے کی چیز)؛ مستند۔