(ض) بَغَيَ يَبْغِيُ (اصلی) ⟵ بَغٰى يَبْغِيْ بَغْيًا (استعمالی): کسی چیز کی چاہت یا طلب میں حد سے بڑھ جانا۔ اس طرح یہ دو معانی میں آتا ہے:
(۱) چاہنا، طلب کرنا؛ اس کا مفعول بنفسہ آتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ (الکھف ۱۸:۶۴)
(۲) زیادتی کرنا، سرکشی کرنا؛ جس کے ساتھ زیادتی کی جائے اس پر عَلٰى کا صلہ آتا ہے۔ ﴿فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى﴾ (الحجرات ۴۹:۹)
بَاغٍ (اصلاً بَاغِيٌ، اسم منقوص، اسم الفاعل): سرکشی کرنے والا، چاہنے والا (اردو میں «باغی» اسی معنی میں)۔ ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ﴾ (البقرۃ ۲:۱۷۳)
بَغْيٌ (اسم ذات): چاہت، زیادتی۔ ﴿وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ﴾ (النحل ۱۶:۹۰)
بَغِيٌّ (اسم نسبت): چاہت والا، زیادتی والا؛ بدکار۔ ﴿وَلَمْ اَكُ بَغِيًّا﴾ (مریم ۱۹:۲۰)
افتعال اِبْتَغٰى يَبْتَغِيْ اِبْتِغَاءً: اہتمام سے چاہنا، جستجو کرنا؛ اِبْتَغِ فعل امر ہے: تو جستجو کر، تلاش کر۔ ﴿وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ﴾ (المائدۃ ۵:۳۵)؛ ﴿وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ﴾ (القصص ۲۸:۷۷)
انفعال اِنْبَغٰى يَنْبَغِيْ اِنْبِغَاءً: نرم اور آسان ہونا؛ مقام و رتبہ میں شایانِ شان ہونا۔ ﴿وَمَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا﴾ (مریم ۱۹:۹۲)
اردو میں اس مادے سے: بغاوت۔